ممبئی، 18؍اکتوبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) شیوسینا نے آج بی جے پی سرکار سے اپنے ترجمان ’ سامنا ‘ کے ذریعہ سوال کیا ہے کہ اچھے دن کی دیوالی کہاں ہے ؟ دیوالی تو ہفتہ کے روز ختم ہوجائے گی؛ لیکن نوٹ بندی او رجی ایس ٹی کے ذریعہ عوام کا جو دیوالہ نکلا ہے اس کا کیا ہوگا ؟’ سامنا‘میں لکھے اداریہ میں شیوسینا نے کہا ہے کہ سرکار نے عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ، عوام کو بھی اس کا جواب دینے کیلئے تیار رہنا چاہئے ۔ آج ملک کی حالت ایسی ہے کہ ہر جگہ جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔لوگوں کو اس کا بھی جواب دینے کے لئے تیار ہونا چاہئے ؛کیونکہ حکومت نے عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ پارٹی نے اپنے اداریہ میں کہا کہ دیوالی پر لکشمی پوجا کرتے وقت لوگوں کو یہ پراتھنا کرنی چاہئے کہ نوٹ بندی کا عفریت پھر دہشت نہ پھیلائے اور لوگوں کی خون پسینے کی کمائی ان سے نہ چھینے۔ شیوسینا نے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے معیشت لڑکھڑا گئی ۔ ٹھیکہ دار اور تاجر گزشتہ 11 ماہ سے گاہکوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ پارٹی سے پوچھا، یہ تہوار ہفتے کے روز ختم ہو گا لیکن معیشت کے ’دیوالیہ‘ کا کیا ہوگا؟ اچھے دن کی دیوالی کہاں ہے؟ کسانوں کی خود کشی روکی نہیں جا سکی ہے۔ معیشت بالکل ہی زمین بوس ہوچکی ہے ، غرض ہر ایک شخص موجودہ سرکار سے پریشان ہے ۔ اس سے قبل بھی ’ سامنا ‘ نے مرکزی سرکار کی جم کر تنقید کی تھی اور ناندیڑ بلدیاتی انتخابات میں شکست کو بی جے پی کیلئے ’’ انتباہ‘‘ قرار دیا تھا ۔